بنگلورو،10؍ جولائی(ایس اونیوز) ریاست میں مانسون کی بارشیں ناکام ہوجانے اور آبی ذخائر پر نہ ہونے کے سبب کاویری طاس میں پانی کا بحران سنگین شکل اختیار کرسکتا ہے، اور ساتھ ہی کرناٹک اور تملناڈو کے درمیان اس مسئلے پر رنجش اور بڑھ سکتی ہے۔ کاویری آبی تنازعہ ٹریبونل کی ہدایت کے مطابق تملناڈو کو پانی مہیا کرانے کی کوششوں میں ناکام ریاستی حکومت کے خلاف تملناڈو نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے، اس دوران کل کاویری نگرانی کمیٹی کی میٹنگ بھی ہونے جارہی ہے ،جس میں خدشہ ہے کہ کرناٹک کو ہدایت مل سکتی ہے کہ کاویری سے تملناڈو کو پانی مہیا کرایا جائے۔ اگر ایسی ہدایت ملی تو پانی کی قلت کی پریشانی کے ساتھ نظم وضبط کا مسئلہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔کاویری طاس کے چاروں آبی ذخائر میں پانی کی مقدار پچھلے چار سال کے مقابل کافی کم ہے اور کرناٹک اس بار تملناڈو کوپانی فراہم کرنے کے موقف میں قطعاً نہیں ہے۔ پچھلے سال مانسون کے آخری مراحل میں ہوئی بارشوں کے نتیجہ میں تملناڈو کو تھوڑا بہت پانی مہیا کرایا گیا ، لیکن اس بار تملناڈو مانسون کی شروعات میں ہی سپریم کورٹ سے رجوع ہوگئی ہے اور اس بات پر مصر ہے کہ تملناڈو کو زیادہ سے زیادہ پانی ملنا چاہئے۔ دونوں ریاستوں کے درمیان اس موضوع پر قانونی ٹکراؤ ناگزیر نظر آرہا ہے۔کاویری ٹریبونل کے قطعی فیصلہ کے مطابق رواں ماہ کرناٹک سے تملناڈو کو دس ٹی ایم سی فیٹ پانی بہایا جانا چاہئے، اور جولائی کے اختتام تک 34 ٹی ایم سی فیٹ پانی دینا ہوگا، لیکن جون کے دوران حکومت کرناٹک سے تملناڈو کو پانچ ٹی ایم سی فیٹ پانی بھی نہیں جاسکا کہ بارش ناکام ہوگئی ۔جولائی میں اب تک ایک ٹی ایم سی فیٹ پانی بھی نہیں آیا۔ بارش کی کمی کے سبب ریاستی حکومت یہاں کی زرعی سرگرمیوں کو بچانے کیلئے بادلوں کی تخم ریزی پر غور کررہی ہے تو تملناڈو نے افزود پانی پر زور دینے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ پانی دینے سے بے بس کرناٹک نے بھی قانونی جنگ میں کود پڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کاویری کے چاروں آبی ذخائر میں 104.55 ٹی ایم سی فیٹ پانی کا ذخیرہ کیا جاسکتاہے، لیکن ان ذخائر میں پانی کی مقدار محض 18.26 ٹی ایم سی فیٹ موجود ہے۔ کرشنا راجہ ساگر جو کاویری طاس کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے یہاں پانی کی مقدار محض 5.39 ٹی ایم سی فیٹ ہے۔ کاویری طاس میں بارش کی قلت کے متعلق ماہرین نے بتایاکہ اس بار گزشتہ سال کے مقابلے محض 38 فیصد بارش ہوئی ہے۔ کاویری آبی ذخائر میں اگر پانی جمع ہونا ہے تو مزید 45 فیصد بارش درکار ہے۔مانسون کے ابتدائی مرحلے میں بھی بارشوں کی ناکامی کے سبب یہ امکان نہیں ہے کہ آنے والے دنوں میں اور بھی بارشیں ہوپائیں گی۔